HomeHeadlinesMeeting vows to resist govt bids to occupy public lands thru vague notification

Comments

Meeting vows to resist govt bids to occupy public lands thru vague notification — 2 Comments

  1. بہت اچھا قدم اٹھایا ہے ضلعی سیاسی اور سماجی قیادت نے۔ ہم اس کو سراہتے ہیں اور حکومت سے گزارش ہے کی عوامی شاملات کو سرکاری املاک قرار دینے کےغیر منصفانہ فیصلوں پر نظر ثانی کرے۔ اس میں علاقے کا اجتماعی مفاد ہے۔ حسب روایت عوام اپنی چراگاہوں اور جنگلی حیات کی حفاظت بہتر طور پر کرسکتی ہے۔
    جب سے موہوم نوٹیفکیشن کے ذریعے عوامی چراگاہوں کو سرکاری قرار دے کر محکمہ جنگلات اور جنگلی حیات کے حوالے کیا گیا ہے تب سے جنگلی جانوروں کی نسلوں اور درختوں کا زوال شروع ہوا اور نتیجتاً سیلابوں نے تباہی مچادی اور گاؤں کے گاؤں صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔ لہذا بہتر ہوگا کہ حکومت عوام کو ہی ان پہاڑوں کی وارث تسلیم کرے اور پھر سے آباد کاری کا موقع دے۔
    جہاں تک ریوربیڈ کا تعلق ہے اس میں بھی انصاف کی ضرورت ہے کیونکہ یہ شوتار لوگوں کی مقبوضہ آباد زمینات کی دریائی کٹاؤ کے سبب سے پیدا ہوئے ہیں۔ ان پر سرکار کا قبضہ عوام کو بے گھر کرنے کے مترادف ہوگا۔ انصاف کی حکومت سے انصاف کی امید کرتے ہیں۔

    شیر ولی خان اسیر
    لغل آباد یارخون

  2. گزشتہ عشرے سے چترال میں پٹواریوں کے نام اور کام سے سب واقف ہیں لیکن چترال کے اندر زمینات کے حوالے سے نہ ختم ہونے والے تنازغات کو پیدا کرنے والے لوگ بھی یہی ہیں. انہوں نے اپنی من مانی سے اپنے قریبوں اور کھلانے والوں کو بڑے بڑے اراضیات کا مالک و مختار بنائے ہیں جس میں اصل مالکان اور سرکار کو بالکل بے خبر رکھا گیا ہے یہاں تک کہ سرکاری روڈز اور دوسرے املاک کو بھی مہربانی کرنے سے دریع نہیں کیے ہیں
    چترال میں پہلے ہی سے قبضہ مافیا ایک ناگزیر مسلئہ تھا مگر ان کی امد قبضہ مافیا کو مزید مظبوط بنایا
    جس کی وجہ سے عوام میں شدید تشویش پیدا ہوگیا ہے جو لوگ صدیوں جن زمینات اور سڑکوں سے استفادہ کرتے ارہے تھے وہ اپنے زمینات اور سڑکوں سے محروم ہوگئے ہیں
    موجودہ حکومت اگر اس سنگین مسلئے پر توجہ نہ دی تو بد ترین نتائج انے کے امکانات ہو سکتے ہیں. جس کی وجہ سے خاندانی اور قبائیلی تنازغات کے ساتھ ساتھ انفرادی جھگڑے پیدا ہونے کے خدشات ہیں. لہذا حکومت اور متعلقہ ادارے عوام کو انصاف فراہم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں

    اختر شاد
    چپاڑی