HomeHeadlinesچترالی ثقافت اور انصاف کے طلب گار لاشیں

Comments

چترالی ثقافت اور انصاف کے طلب گار لاشیں — 2 Comments

  1. ہر کسی کا اپنا سوچ ہوتا ہے۔ ہم نے ایشوز کو کبھی سنجیدہ نہیں لیا سادہ قتل کا کیس ہوتا ہے ہمیں پتہ ہے کہ جرم ہے۔ پھر بھی اپنے فلسفیانہ سوالات جھاڑتے ہیں۔

  2. ۔ کیا فلسفہ بیان کیا ہے لکھاری نے۔ ایک ٥ یا ٧ سال کی لڑکی جس کو فحاشی یا بے پردگی کا پتہ نہیں چلتا اس معصوم کے ناچنے سے کیا ہوتا ہے؟
    ٥ یا ٧ سال کی عمر سے کسی مرد نے بھی کباڑ کی تنگ پتلون پننا شروع کی ہو اور ھیپّیوں کا عام حلیہ بنا کر ننگے سر پھرنے اور آزاد گپ شپ کا عادی ہو ایسے شخص کو بالکل محسوس نہیں ہوتا کہ اس میں کوٸی خرابی بھی ہے کیونکہ وہ اسکی فطرت بن جاتی ہے۔
    طارق عزیز نے ایک بھکاری کو کہا تم جوانمرد ہو ہاتھ پھیلاتے کچھ تکلیف محسوس نہیں ہوتی تو ان کو بھکاری نے کہا کہ اسمیں کیا مشکل ہے بس ہاتھ ہی تو پھیلانی ہے۔
    شرم، حیا اور غیرت ختم ہوجاٸے تو پھر انسان کسی حد تک گر سکتا ہے۔

Leave a comment