HomeHeadlinesمسلمان بمقابلہ مسلمان

Comments

مسلمان بمقابلہ مسلمان — 2 Comments

  1. قدایم زمانے کے مسلمان علماء مختلف علوم طب فلکیات نجوم وغیرہ میں ماہر ہوتے تھے پھر جب مسلمانوں کی حکومتیں کمزور ہو گئیں تو علماء صرف دینی علوم کو زندہ رکھ سکے اور اسی بنا پر ان میں سے کچھ علماء دوسرے علوم کی نفی بھی کرنے لگے۔اسکی وجہ یہ تھی کہ ان علوم سے انکو واسطہ نہ رہا تھا۔
    دوسری بات مضمون نویس نے چترال کی ریاستی حکومت کے مظالم کے بارے میں کی ہے تو اس کے دو پہلو ہیں ۔ پہلی بات یہ کہ ریاست کا ظلم اس غریب علاقے کا نظام چلانے کے لئے مجبوری تھی جیسے لگان، غلام بیچنا، بیگار کرانا وغیرہ۔ دوسری بات یہ کہ جس ظلم اور پٹائی کا ذکر جناب نے فرمایا ہے وہ مہتر مظفرالملک کے دور کا ہے جو سیاسی مخالفین کو ریاستی قواعد کے میدان/پریڈ گراؤنڈ میں پیش آیا تھا۔ ایسا قدیم دور میں یعنی 1895 ء سے پہلے کبھی پیش نہیں آیا تھا جب مہتر علاقے کے لوگوں کا سربراہ اور نمائیندہ ہوتا تھا۔ 1895ء کے بعد برطانوی حکومت ہند مہتران کا چُناؤ یا انکو تسلیم کرتی تھی اور وہ حکومت کا ایک عہدہ دار ہوتا تھا جسکو عوام سے کوئی خاص واسطہ نہیں ہوتا تھا اور نہ کسی کی ناراضگی کا ڈر ہوتا تھا۔ میدان میں مخالفین کی اس پٹائی کا وقتی طور پر اثر ہوا مگر چترال کے آریا مزاج کے مطابق ریاست کے خلاف ایک منظّم تحریک نے درپردہ جنم لیا جسکی میدان میں قیادت مولانا نور شاہ دین کرتے تھے مگر انکے سرپرست 3 عدد با اثر اور تجربہ کار غیر علماء لوگ تھے جنہوں نے دیہہ بہ دیہہ اس تحریک کے جتھّے ترتیب دئے تھے۔
    قابل ذکر بات یہاں یہ ہے کہ کسی بھی لکھائی کی بنیاد منطق اور دلیل کی بنیاد پر ہونی چاہئے نہ کہ نفرت پر، مثلا” کٹور کا ظالمانہ دور یا ڈیڑھ انچ کی مسجد کا ملّا وغیرہ ایسے الفاظ ہیں جو کسی سنجیدہ سوچ کی عکاّسی نہیں کرتے۔

  2. The topic should be Mula against humanity and Muslims.you are right the Madrasa students will not get any religious information and knowledge but will get poor hygenic health issues and some chronic diseases with the bagging expertise. Reform and registration with the main stream educational system is very important. BUT WHO WILL LISTEN US, OUR PUBLIC REPRESENTATIVES ALWAYS THINK NON SENSE AND TALK ABOUT USELESS ISSUES. GOD BLESS THEM AND KEEP THEIR INTELLECT AND THEIR INTELLECTUAL LEVEL AS IT IS. AMIN

Leave a comment