HomeHeadlinesجشن آزادی، ناچ گانا اور ہمارا رویہ


جشن آزادی، ناچ گانا اور ہمارا رویہ — 2 Comments

  1. چترال ایک قدیمی ریاست رہی ہے جسکی کچھ اپنی روایات باقی ہیں۔ چترال کی ثقافت میں عورت کبھی بھی نہیں ناچتی۔ اس روایت کو بدلنے کیلئے حکومتی سرپرستی میں آج ١٢ سال کی لڑکی نچائی گئیں تو کل غیر سرکاری طور پر ١٦ سال کی لڑکی رقص کرے گی۔ ھندوستان میں ھندو مسلمانوں کی عزت خراب کر رہے ہیں تو کیا انکی مذمّت کی یہ صورت ہے کہ یہاں کی بیٹیوں سے رقص کرائی جائے؟
    ضیا۶ الحق شہید زندہ ہوتے تو ان افسران کو پوچھتے۔

  2. Dance, songs, parties are parts of celebrations and event and that is ok. But when you claim to express sympathy and support people of Kashmir who are being killed and maimed by occupying forces of India, does it sound civilized to sing and dance at any manner. There was a musical night at Governor Cottage last night while nation was set to observe a black day to support the kashmiri people. This is height of absurdity and callous attitude of all of us.