HomeHeadlinesچترال کے مقروض کاشتکاروں پرذرعی بنک کا ظلم

Comments

چترال کے مقروض کاشتکاروں پرذرعی بنک کا ظلم — 2 Comments

  1. اسیر صاحب کا شکریہ کہ اس نے ایک اہم مسئلے کی طرف حکومت کی توجہ مبذول کرائی ہے۔ 2015 میں جوسیلاب ائے تھے ادھا سے زیادہ چترال مصیبت میں گری ہوئی تھی ایسے موقعے پہ وزیر اعظم نے چترال کے عوام کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کر کے ان کے قرضوں کی معافی کا اعلان کیا تھا۔ ظاہر ہے وزیر اعظم اپنے جیپ سے تو نہیں دے سکتے اگر قومی خزانے سے تھوڑا سا رقم ان مصیبت زدہ لوگوں کے ساتھ ہمدردی کے طور پر خرچ کیا جاتا تو کیا فرق پڑتا۔ معیشت کے اوپر اس کا اثر دیکھا جائے تو نہ ہونے کے برابر ہے۔ کل پیکیج ۱۵ سے ۲۰ کروڑ روپے کا ہوتااور یہ رقم تقسم کیا جائے فی بندا ایک روپیہ بھی نہیں ہوتا ہے لیکن کافی لوگوں کو اس کا بہت زیادہ فائدہ ہوتااور لوگ اپنی مصیبتوں کو بھول کر وزیر اعظم کو دعائیں دے رہے ہوتے اور اج نا اہل وزیر اعظم کو یہ برے دن نہ دیکھنے پڑتے۔ وزیر اعظم بہت بڑا ادمی ہوتا ہے وہ ایک اعلان کرنے کے بعد اگر اس کو عملی جامہ نہیں پہنا سکتا تو وہ وزیر اعظم رہنے کا حق بھی نہیں رکھ سکتا۔ اس نے یہاں اکر جھوٹ بولا ، اسمبلی میں جھوٹ بولا، قوم کے ساتھ خطاب میں جھوٹ بولا اور عدالت میں جاکر بھی جھوٹ بولا اسی وجہ سے پاکستان کی اعلی عدالت نے اسے امین اور صادق قرار نہیں دیا اور ان کی اپنی کرتوتوں کی وجہ سے ہی وہ اج ذلیل ، خوار اور بے عزت ہو چکا ہے۔ابھی بھی اسکی اپنی حکومت ہے اگر وہ اس کا ازالہ کرنا چاہے تو اچھا ہے شاید نا اہل وریر اعظم کے مسائل میں کچھ کمی ہو جائے کیونکہ لوگوں کی دعاوءں میں بھی بہت اثر ہوتا ہے، خاص کرکے مصیبت زدہ لوگ اگر دعا کریں تو اللہ پاک ان کی دعاؤں کو قبولیت دیتا ہے۔ اگرکوئی بھائی اس اعلان کی مخالفت کرتا ہے تو وہ بد دیانتی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ شاید اس نے خود قرضہ نہیں لیا ہوا ہے اور دوسرے لوگوں کو فائدہ پہنچنے سے اس کو اچھا نہیں لگتا۔ میری نا اہل وزیر اعظم اور اسکی حکومت سے درخواست ہے کہ اگر قومی خزانے سے نہ صحیح اپنی جیپ سے ہی یہ چھوٹی سی رقم دیکر یہ سمنھے کہ اس نے صدقہ کیا اور پھر دیکھے کہ اس کے مصیبتیں کیسی کم ہوتی ہیں۔

  2. یہ ظلم کیسا ہے بھائی ؟ آپ نے قرضہ لیا ہے. قرضہ واپس کریں. بات ختم. قرضہ معاف کرنے کا کسی کو اختیار نہیں. یہ اس غریب کی امانت ہے جس نے قرضہ نہیں لیا. یہ قومی خزانے کا پیسہ ہے’ وزیر اعظم کا ذاتی پیسہ نہیں جومعاف کرے گا. اب یہ قرضہ مافی کا دھندہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جانا چا ہیے