HomeHeadlinesشہر سے دور شہر یار سے دور

Comments

شہر سے دور شہر یار سے دور — 1 Comment

  1. نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں … یہ حضرت علامہ اقبال نے کہا ہے .. نگاہ سے مراد عقل فراست ہے ..ھمین ان باتوں کی سمجھ نہیں ہے .. ہم نے تو الله کے نام پر آخرت میں سرخرو ہونے کیلئے ووٹ دیا ہے .. پھر بجلی وغیرہ کا رونا کیسا ؟؟ اگر ہماری عقل فراست یہ ہے کہ سارا پاکستان ایک طرف اور ہم معزز چترالی دوسری طرف خود کو رکھیں گے تو نتیجہ یہی نکلنا تھا .. ہمیں چائیے کہ دھڑا دھڑ سیرت کانفرنسیں کرائیں، نماز روزوں کی فکر کریں .. اور عمرہ پیکیج مانگیں … ہماری عقل فراست کا یہ حال ہے کہ پچھلے اور اس سے پچھلے چناو میں ہم ان لوگوں کو ووٹ دیتے آئے ہیں جن کا حزب اختلاف میں بیٹھنا یقینی تھا .. اب کی بار تو ہم نے کمال ہی کر دکھایا ، پورے پاکستان میں جماعت کی ایک ہی تن تنہا سیٹ اور وہ سیٹ کہاں سے ٹپکی ،، چترال سے .. اور اپنا قیمتی ووٹ ہم نے الله کے نام پر حق اور باطل کے مقابلے میں ظاہر ہے بحیثیت مسلمان ہم نے حق حق کو چنا تاکہ ہم بعداز موت الله کے ہان سرخرو ہوں
    میں چترال ہی میں موجود تھا کم و بیش ہر مسجد سے یہی حق و باطل کی سدایئں بلند ہو رہیں تھیں .. اور اپ نے بھی یقینا حق ہی کو چنا ہوگا .. اب اپ چار دنوں کی دنیا کیلئے آخرت کو بھلا رہے ہیں ، ہمیں ہماری ووٹ کا اجر ضرور ملے گا .. بس آج یا کل موت جونہی ہمیں گلے لگا لے تو ہم بجلی اور سڑک کی مجبوریوں سے آزاد ہونگے ، پھر ہر طرف بجلی کے قمقمے ، ھوص کوثر پھر حوروں کے قہقہے ،، موجاں ہی موجاں ،، بس کچھ دنوں کا انتظار حوصلے اور اسی حوصلے ایمانی سے کرتے ہیں ، جس جذبہ ایمانی سے ہم نے ووٹ دیا تھا …. رب کا شکر ادا کر بھائی جس نے ہم کو گاۓ بنائی

Leave a Reply