HomeHeadlinesبی بی فوزیہ کا مبینہ وُوٹ فروخت کرنا اور چترال کے شوشل میڈیا کارکنان کا ردِعمل

Comments

بی بی فوزیہ کا مبینہ وُوٹ فروخت کرنا اور چترال کے شوشل میڈیا کارکنان کا ردِعمل — 4 Comments

  1. Very Well Said, brilliant analysis.
    This has nothing to do with Chitrali Izat, she is an individual and if she sold her vote she was shamed rightfully and must be held responsible. Chitraliz have nothing to do with this.

  2. چلیں ہم سارے چترالی اپ کے کہنے پر خاموش رہتے ہیں ، کل فوزیہ کی پیشی ہوتی ہے .. اس کے دو ہی نتائج نکل سکتے ہیں ، فوزیہ کو جتنا بے عزت ہونا تھا وو ہو چکی ، بے گناہی ثابت نہ بھی کرے تو اس سے زیادہ اور کیا بےعزت ہوگی .. اپ کو میرے اس سوال کا جواب دینا ہے کہ بلفرض اگر ہ بے گناہ ثابت ہوتی ہے .. تو آگے پتہ ہے کیا کیا جاتا ہے ؟ ہتک عزت کا دعوا .. کیا اپ کا عمران اکے ہمارے ساتھ یہ وعدہ کرے گا کہ ان کا لگایا گیا الزام غلط ثابت ہونے کی صورت میں وہ پنکی کو چترال لاکر موجرہ کرائے گا ؟؟ آیئں دوسری مثال لیتے ہیں ، آج آپکو یہ مجھے نیشنل میڈیا پر اکے یہ کوئی کہے کہ ہم حرامی ہیں اگر ہم حرامی نہیں ہیں تو عدالت جاکر اس بات کو ثابت کریں . تو میرا یا اپکا فوری رد عمل کیا ہوگا . ؟؟ کیا اپ خاموشی کے ساتھ عدالت سے رجوغ کریں گے یہ کچھ اور کرنا ہوگا ،، اگر ہم عدالت جاکر یہ ثابت کر بھی لیں کہ ہم حرامی نہیں تھے ، تو ہمارے اپر الزام کا کیا ہوگا ؟ ، کیا اپ خوشی خوشی فائل بغل میں دبا کر گھر جائیں گے ؟ کیا اس الزام کے بعد سوسائٹی ہمیں اسی عزت سے دیکھے گی جو پہلے تھی ، اگر ایسا ممکن ہوتا تو عمران کو اپ بھی آکسفورڈ والے اکسفورڈ کا بھگوڑا اور پاکی پلے بوا ے کے نام سے یاد نہ کرتے . ؟؟
    دوسری بات : چترال میں بیٹیوں کی شادی میں ، مال کے نام پر لڑکے والوں سے سے پیسے لینا روز ازل سے ہمارا دستور رہا ہے ،، اب کوئی پجابی پٹھان اس دستور کو کوئی اور نام دیتا ہے تو ہم ان کا منہ بند نہیں کر سکتے .. اگر ہم بھی ان کی بات کے ساتھ اتفاق کرتے ہیں تو میرے ، آپکی اور ہر چترالی کی مائیں بھی بکاؤمال بن کے ہمارے گھروں میں ای ہیں میں اپ اور ہر چترالی ان بکاؤ موں کے اولاد ہیں ، کیونکہ اسی دستور کے تحت ہماری مائیں ہمارے گھروں میں ای ہیں – غریب پنجابی پٹھانوں کی بیٹیاں رشتہ نہ ملنے کی صورت میں کنجر خانوں کی رونق بن جاتی ہیں ، ہمارے غریبوں کی بیٹیاں فروخت ہوکر کسی کی عزت بنتی ہیں . بس اتنا ہی فرق ہے .. پھر بھی اس سلسلے کو کم کرنے کیلے میرے بھائی تنظیم دعوت عزیمت میں کام کرتے کرتے عمریں گزاردیں ،، اور خود میں نے اپنی جیب سے پیسے خرچ کرکے ان کو پولیس کے ہمراہ بلاکر چند شادیوں کی انکوئری بھی کرائی ہے . اپ بتایئں آج تک اپ نے اس سلسلے میں کیا کردار ادا کیا ہے ..
    اپکا تیسرا فرمان یہ ہے کہ انکو مفت کا عھدہ ملا تھا ،، اگر مفت کا عھدہ لینا اتنا آسان نہیں ہوتا ، اس کیلے ہیڈ ہنٹنگ کرنا ہوتا ہے ، اور جو اس عھدے کے لائق ہو اسے یہ عھدہ دیا جاتا ہے . ورنہ چترال سے دو چار ایسی عورتیں بھی ہیں جو عمران کو اپنے گھروں میں عرصے سے سے لاکر بیٹھاتی رہیں ہیں . اور فوزیہ تو شاید چھ سال پہلے عمران کو جانتی بھی نہیں تھی ..

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *