HomeHeadlinesورلڈ بینک کی میٹنگ میں سوالات کا سامنا

Comments

Recreational activities and women mental health — 2 Comments

  1. ممتاز کائے!بو شئیلی وا منطقی لُو نیویشی اسوس۔
    اپسوز ہیہ کی اسپہ تان نان گینیان، اسپسار گینیان وا ژورگینیان انسان تان نو جاشوسیان۔ وا ہاش سیق سیق خوشانیان ہاتیتان بچے حرام قرار دیتی اسوسی۔
    ہاروش جاہل لیڈرانن منتخب کوریک ہے نان گینیان اوچے ژورگینیان بو لوٹ غلطی ثابت ہوئے۔ وا ہے برائے نام لیڈرانن سوم لُو دیک ’’کھانجتو بیرموغ اُولیئک‘‘۔
    خدائے انصاف دیار

  2. جب تاتاری مسلمان سلطنت کی اینٹ سے اینٹ بجارہے تھے تو ہمارے کرتا دھرتا اس بحث میں الجھے ہوئے تھے کہ سوئی کے سوراخ میں سے کتنے فرشتے گزر سکتے ہیں۔ اج بھی کچھ ایسی ہی صورتحال ہے۔ بحیثیت معاشرہ ہمارا سفر ایک ایسی منزل کی طرف جاری ہے جہاں استدلال، بحث و مباحثہ اور حقائق کی بنیاد پر فیصلہ کی جگنجائش نہ ہونے کے برابر ہے۔ چترال کا معاشرہ روایتی طور پر خواتین کے معاملہ میں کافی نرم رہا ہے۔ لیکن آخر ہم نے بھی اپنے ارد گرد کے ماحول سے اثر لینا شروع کیا۔ رہی سہی کسر ہماری سیاسی نا پختگی نے پوری کردی۔ ہمارے قائدین کیلیے دین اور اس کے احکامات عورت سے شروع ہوکر عورت پر ختم ہوتے ہیں۔ جشن قاقلشٹ کے دوران صفائی کے انتہائی ناقص انتظام اور گندگی کے ڈھیر دیکھ کر
    مجھے لگا کہ ایمان کا ادھا حصہ تو ہم ویسے بھی کھو چکے ہیں۔ ادھا عورتوں کی شرکت(صرف دیکھنے کی حد تک) پر پابندی لگاکر بچانے کی کوشش کررہے ہیں۔
    ہم تعلیم یافتہ تو ہیں، لیکن تعلیم بغیر شعور کے ایسی ہی ہے جیسے بغیر بریک کے گاڑی جو اپ کو کسی گہری کھائی میں تو گراسکتی ہے لیکن منزل کی طرف کبھی لے نہیں جاسکتی۔ یہ وقت ہے ہم سوچیں کہ ہمارا اصل مسلئہ ہے کیا اور
    اس کے حل کا تعین کریں۔ ورنہ نہ ہم دین کے رہیں گے نہ دنیا کے۔