HomeHeadlinesضلع ناظم کی طرف سے امتیازی سلوک بند نہ کیا گیا توخواتین ممبران لانگ مارچ کرنے پر مجبور ہوں گی

Comments

Nazim slams C&W dept’s apathy, pays tributes to Ismaili volunteers for reconstruction of 160km road — 4 Comments

  1. ویلیج کونسل کھوژکے ناظم کا بیان حقیقت پر مبنی ہے – جو کام متعلقہ محکمے کی ذمے داری میں آتا ہے اسے اسماعیلی اور سنی بھائیوں نے ملک انجام دیا اور ایسی سڑک بنا ڈالی جس کی مثال پہلے کبھی نظر نہیں آئی ہے – یہ عوامی رضاکارانہ کام سی اینڈ ڈبلیو ڈپارٹمنٹ کے لیے ایک راہنما مثال بن گیا ہے-آئیندہ مرمت کے پیسے ٹھیکے داروں کے پیٹ کاایندھن ڈابنانے کی بجائے عوامی تنظیمات کو دیے جائیں تاکہ اس لمبی اور آہم ترین سڑک کی مرمت اس طرح تسلی بخش ہوسکے

  2. would have been better if govt had showed some respect for the community and repair the road to facilitate the community whose spiritual leader is due to be out guest. Aga Khan is not an ordinary guest. Besides being the spiritual leader of the Ismailis, he and his family has done tremendous work for Pakistan right from the independence movement till today. Today his mureed are seen working on road for which the corrupt officials pocketed millions in the name of repair for many years. shame on the govt.

  3. We salute to the volunteers for their extraordinary contributions in terms of repairing the rough roads. Unfortunately, our leaders MNAs and MPAs have become senseless and they don’t care about the difficulties of people while travelling on these roads and the sentiments of the thousands of ismaili community. However, the spirit of volunteerism should continue and without this perhaps we will not be able to survive. Well done and may Allah bless them all for their selfless contributions.

  4. انتہائی قابل تعریف کام ہے۔ اسمعیلی والنٹئر کے بھائی اور بہنیں سالوں سالوں بعد حرکت میں ائے اور جنگل کو
    منگل بنادیا۔ باقی دنوں میں ان کی صلاحیتوں سے کماحقہ استفادہ نہیں کیا جاتا۔ حالانکہ وقت نے ثابت کردیا کہ انسان کے
    اندر جذبہ ہو تو وہ اسمان سے تارے توڑ کر بھی لاسکتا ہے۔ والنٹئر کا یہ کام صرف ایک موقع تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ بلکہ سال میں کم از کم ایک یا دو بار والنٹئر کے جوانوں کو باہر نکل کر قومی مفاد کے ایسے کام کرتے رہنے چاہئے۔ اس سے ایک تو ہمارے اندر اجتماعی کام کا جذبہ ہردم بیدار رہے گا، دوسری طرف حکومت پر ہمارا انحصار کم سے کم ہوجائے گا۔ کیا پتہ عوام کا جوش دیکھ کر سرکار کو بھی خواب خرگوش سے جاگ جائے۔

Leave a Reply to شیرولی خان اسیر Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *