HomeNewsBrief NewsTraining session for police on human rights organized

Comments

چترال کو دواضلاع میں تقسیم کرنا وقت کی اہم ضرورت — 2 Comments

  1. مدلل اور وزن دار تحریر ہے، مگر یہ دلیلیں حکمرانان وقت کے کانوں کو اس لیے سنائی نہیں دیتیں کہ ان کو تعصب نے بہرہ کردیا ہے۔ چاہے جس کسی کی بھی حکومت ہوچترال کے ساتھ کھلا تعصب بھرتا جاتا رہا ہے۔ اگر اس سال بھی مستوج کی ضلعی حیثیت بحال نہ ہو سکی تو ہمیں 2018 کے الیکشنز کا بائیکاٹ کرنا چاہیے اور امیدواروں پر لاٹھی برسانا چاہیے۔ موجودہ اور سابقہ ایم پی ایز کا استقبال سڑے انڈوں اور جوتوں سے کرنا چاہیے۔ اس کے بغیر ہم اپنا یہ بنیادی حق حاصل نہیں کرسکتے۔ ہم اس سال مئی سال باقاعدہ تحریک کا آغاز کریں گے اور اپنے حق کے لیے لڑیں گے انشا اللہ!۔

  2. Creation of upper chitral district is not an issue for any govt or political party in power in Peshawar whether PPP, PTI, PML-N etc. They have no problem with it and would have long made it a district rather they would have made three or four districts in Chitral on demand of the people.
    The opponents of upper Chitral district are sitting right under your nose. These people who also do politics and enjoy govt parks and privileges using the name of religion will never let upper Chitral become a new district.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *