HomeHeadlinesضلع ناظم کی طرف سے امتیازی سلوک بند نہ کیا گیا توخواتین ممبران لانگ مارچ کرنے پر مجبور ہوں گی

Comments

ویلج کونسل ناظمیں دختران چترال کی خاطر دعوت عزیمت کا ساتھ دیں — 2 Comments

  1. Hello Salahuddin,

    Here I intentionally drop “Toofan” because I don’t think this man deserves to be called “Toofan”. If he ahd been a that brave like word Toofan he would have chashed Chaudhary who freely wandering in Chitral with all the documents against then woman in his hands. There could be no other great opportunity than his. If he so sincere about the issue of girl marriage outside Chitral, he should come forward and hold a meeting with the man and the woman in presence of some notables of the area. Otherwise, he must drop Toofan from his name if he could not chnage his name.

  2. چترال سے باہر اضلاع میں شادیوں کا رجحا ن نہایت ہی بھیانک صورتحال اختیار کر چکا ہے مگر مسمۃ خورشیدہ بی بی کے دعوے اور بعد ازاں اسکے مبینہ شوہر چوہدری انور حسین کی طرف سے چترال میں آکر پریس کانفرنس میں بیان کردہ قصہ ایک نئے صورتحال کو آشکارا کرتی ہے۔ یہ بات نہایت ہی دکھی ہے کہ چترال کے لوگ بھی شادی بیاہ کو ایک فراڈ کے طور پر استعمال کرنے لگے ہیں اور اس سلسلے میں تمام اخلاقی اقدار ، ملکی روایات کو پس پشت ڈال رہے ہیں جوکہ چترال اور اسکے امن پسند عوام کے لئے شرمندگی کا باعث ہے۔ دو نوں طرف سے بیانات سامنے آنے کے بعد اس سلسلے میں اعلیٰ سطحی اور غیر جانبدارانہ انکوائری کی ضرورت بڑھ گئی ہے کیونکہ قرائن جو بتا رہے ہیں وہ ’’ چوہدری انور‘‘ کے حق میں جاتے ہیں وگرنہ سینکڑوں کلومیٹر دور سے آکر یہ شخص چترال میں پریس کانفرنس کرکے اپنا مدعا بیان نہیں کرتا۔ یہ بات بھی چترالی خاتون خورشیدہ بی بی سے پوچھنی چاہئے کہ وہ اتنے عرصے گم شدہ رہیں مگر حیران کن طور پر اسکے خاندان والوں کی طرف سے پولیس میں رپورٹ درج نہیں کی گئی جوکہ معنی خیز امر ہے۔اسی طرح نکاح نامے کو جعلی قرار دینے والی خاتون اپنے ہی بات کی نفی کرتے ہوئے عدالت میں تنسیخ نکاح کا مقدمہ دائر کر چکی ہے۔ آزاد کشمیر کے چوہدری انور کی طرف سے مبینہ ریکارڈ کی فراہمی جس میں متذکرہ گینگ کی تفصیلات بتائے گئے ہیں اس امر کا تقاضا کررہی ہیں کہ دال میں ضرور کچھ نہ کچھ کالا ہے اور اس حساس نوعیت کے معاملے کو احتیاط سے ڈیل کرکے تمام رازوں سے پردہ اٹھانا چاہئے۔ اس سلسلے میں مسمۃ خورشیدہ بی بی کے اڑوس پڑوس سے بھی معلومات اکھٹی کرنے کی ضرورت ہے۔ ابھی تک انجمن دعوت عزیمت کا کردار پورے ضلع بھر میں نہایت مثبت رہا ہے مگر اب جو الزام لگاہے اس صرف نظر نہیں کیا جا سکتا لہذا تنظیم کے کرتا دھرتا افراد چوہدری انور کے ساتھ ملیں اور ایسے عناصر کی نشاندہی کروائیں جو کہ تنظیم کا نام استعمال کرکے بلیک میلنگ کر رہے ہیں۔